Аватар канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

@aimplb_official

Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights. AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1 https://twitter.com/AIMPLB_Official https://www.youtube.com/AIMPLB_Official http://fb.me

ПроектыFAПолитика

26,414подписчиков

Открыть канал

Последние посты

  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    24 сент., 06:13изменён

    ▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 343▪️🗓 برائے تاریخ: 25 ستمبر 2026 مطابق , 12 ربیع الثانی 1448🎯 ​ آئیے، دلوں کو جوڑیں!📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں: https://t.me/AIMPLB_Official/10091 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں: http://wa.me/+918657219464🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
    1,940файл113Открыть в Telegram
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    23 сент., 02:11

    (7) اگرچہ جنتر منتر پر دھرنا نہیں ہوسکا، لیکن احتجاج کا بنیادی مقصد، یعنی بورڈ کے موقف کو عوام اورمتعلقہ حلقوں تک پہنچانا، ایک مختلف انداز میں زیادہ مؤثر طور پر سامنے آیاہے۔ اجازت نہ ملنے کے بعد بورڈ کی پریس کانفرنس اور وضاحت کو میڈیا نے نمایاں طور پر نشر کیا۔ اس طرح بورڈ کی آواز ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ بیرونِ ملک تک بھی پہنچی۔یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے واقعے نے بورڈ کے موقف اور اس کی آواز کو وسیع پیمانے پر زیرِ بحث لایا، اس صورتِ حال سے یہ بات واضح ہوئی کہ بورڈ کے موقف اور اجتماعی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ (8) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک دستور بچاؤ، ملک بچاؤ جاری ہے اور آئندہ بھی حالات، مواقع اور ماحول کے مطابق جاری رہے گی۔ بورڈ اپنے اصولی موقف سے دست بردار نہیں ہوا ہے اور ملت کے دینی، قانونی اور اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا، احتجاج کے طریقۂ کار اور وقت کا تعین حالات کے مناسب جائزے کے بعد کیا جائے گا۔ (9) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملت کا ایک اجتماعی پلیٹ فارم ہے، جس میں مسلمانوں کی تمام دینی و ملی جماعتیں، مسالک، اہم دینی مدارس، ملک کے ممتاز علماء و دانشور شامل ہیں۔ بورڈ میں جہاں ایک طرف ملک کی مؤقر تنظیم جمعیت علماء ہند کے دونوں گروپس موجود ہیں، وہیں مرکزی جمعیت اہل حدیث، جماعت اسلامی ہند اور امارت شرعیہ پٹنہ بھی اس میں شامل ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر اور مؤقر شیعہ علماء کی نمائندگی بھی ہے۔ اس کے مرکزی مناصب پر فقیہ ملت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(صدر)، مؤقر عالم دین اور ممتاز دینی رہنما مولانا سیدارشد مدنی، مولانا عبیداللہ خاں اعظمی (سابق ایم پی)، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، جناب سید سعادت اللہ حسینی، مولانا محمد علی محسن تقوی( نائب صدور)، مولانا محمد فضل الرحیم مجددی ( جنرل سکریٹری)، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی اور مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی (سکریٹریز) پر فائز ہیں اور مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند بھی شامل ہیں۔ بورڈ کے تمام اہم فیصلے اس کی مجلس عاملہ میں اور مرکزی ذمہ داران کی موجودگی میں اتفاق رائے سے طے پاتے ہیں۔ ایک غلط تأثر یہ پیدا کیا جا رہا ہے کہ ایک دو افراد ہی بورڈ کے اہم فیصلے کر تے ہیں جو کہ خلاف حقیقت اور کذب بیانی ہے۔ بورڈ کے ترجمان نے آگے کہا: (10) آج سوشل میڈیا پر بعض ایسے افراد کی جانب سے بورڈ کو کمزور، بے اثر یا بے وزن ثابت کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں،جن کا سماج میں کوئی اثر نہیں ہے،مسلمانوں کو ایسی مہمات سے متأثر ہونے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ مسلم ہے؛ لیکن اجتماعی اداروں کی اہمیت کو کمزور کرنا اور ملت کی اجتماعیت کو نقصان پہنچانا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی اجتماعیت کو برقرار رکھیں، ذمہ دار اداروں کے ساتھ تعلق اور اعتماد کو قائم رکھیں اور کسی بھی معاملے میں جذباتی ردعمل کے بجائے سنجیدگی، بصیرت اور باہمی تعاون سے کام لیں۔ ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ ا ٓل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور ملت کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی، جمہوری اور مؤثر جدوجہد جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہےاوربورڈ کے آئندہ اقدام ان شاءاللہ اس کے اس عزم کی گواہ ہوں گے۔✍️ جاری کردہ ڈاکٹر وقارالدین لطیفی آفس سکریٹری
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    23 сент., 02:11

    سنجیدہ ،اصولی اور قانونی جدوجہد ہی بورڈ کا طریقہ کار ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈhttps://www.facebook.com/share/p/19U1z1EmCD/ ------------------------------------------ نئی دہلی: 22؍ستمبر 2026 17؍ستمبر کو پولیس کی جانب سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو دھرنے کی اجازت نہ دینے اور اس کے بعد بورڈ کی جانب سے دھرنا منسوخ کرنے کے فیصلے پر میڈیا اور سوشل میڈیا میں بعض افراد حقائق سے ناواقفیت کی بنا پر بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور بعض لوگوں نے تو اخلاقی حدود سے بھی تجاوز کیا ہے۔ حقائق سے واقفیت کے بغیر بعض گوشوں سےتنقیدیں، بورڈ کو کمزور کرنے اوراسلام مخالف طاقتوں کومضبوط کرنے کی نادانستہ کوشش ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک ذمہ دار ملت کے افراد سے اس نامناسب رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عوام ان گمراہ کن تبصروں سے متأثر نہ ہوں، اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کے بعض اہم حقائق ان کے سامنے رکھے جائیں۔انہوں نے کہا: (1) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام سے لے کر آج تک اس کے اکابر اور ذمہ داران نے ہمیشہ شریعت اور ملکی قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ بورڈ کے پہلے صدرحکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ سے لے کرحضرت مولاناسید محمد رابع حسنی ندوی ؒ تک بورڈ کا مزاج جذباتی سیاسی ردعمل کے بجائے سنجیدہ، قانونی اور اصولی جدوجہد پر مبنی رہا ہے۔ اس کے فیصلے وقتی جذبات سے نہیں، بلکہ حالات کے گہرےتجزیے، امت کے مفاد اور دور رس نتائج کو سامنے رکھ کر کیے جاتے رہے ہیں۔ (2) بورڈ ایسا کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرتا جس کے نتیجے میں مسلم نوجوانوں کو غیر ضروری طور پر سڑکوں پر آنے اور حکومت کو ان کے خلاف سخت کارروائی کا موقع ملے۔ موجودہ حالات میں جب پہلے ہی ہزاروں مسلم نوجوان جیلوں میں بند ہیں اوران کے گھر والے ان کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں، ایسے میں کسی بھی احتجاجی اقدام کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ احتجاج کا مقصد مسائل کا حل اور حقوق کا تحفظ ہے نہ کہ نوجوانوں کو ایسے خطرات سے دوچار کرنا جن کے نتائج پوری ملت کو بھگتنا پڑیں۔ (3) آج ملک میں برادرانِ وطن کے مختلف طبقات کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں، سماجی ناہمواریوں اور اونچ نیچ کے خلاف آوازیں بلندہو رہی ہیں، ریزرویشن کے مسئلے پر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف برسراقتدار پارٹی کا روایتی اپر کاسٹ ووٹ بینک ریزرویشن کے خلاف ہے تو دوسری طرف بی جے پی ملک کے پسماندہ طبقوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ریزرویشن کی بات کررہی ہے، اس کی وجہ سے خودپارٹی کے اندر شدیدکش مکش اوربے چینی پائی جاتی ہے، بعض ریاستوں میں انتخابات قریب ہیں اوراس پارٹی کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہاہے کہ اس نے ترقیاتی کاموں کے بجائے فرقہ وارانہ مسائل پر ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ان حالات میں ہر اقدام کے سیاسی اور سماجی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ بورڈ کی کوشش ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے حکمراں جماعت کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے نئی توانائی حاصل کرنے یا عوامی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹانے کا موقع ملے۔ (4) بورڈ نے 17؍ ستمبر کے احتجاج کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے تھے اور احتجاج کے تعلق سے بھرپور کوشش کی تھی اور تمام اسٹیک ہولڈرس سے بات بھی کرلی تھی؛ جنتر منتر پر بورڈ اس سے قبل بھی دو مرتبہ احتجاج کرچکا ہے، اس لیے توقع تھی کہ اس بار بھی اجازت حاصل ہوجائے گی؛ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا اورآخروقت میں اجازت کینسل کردی گئی ۔مگراحتجاج کی اجازت نہ ملنے کو بورڈ کی کمزوری یا اپنے موقف سے دست برداری سمجھنا درست نہیں ہے۔ (5) بورڈ کی موجودہ انتظامیہ نے ملک کے مرکزی شہروں میں ایسے بڑے احتجاجات منعقد کیے ہیں ، جن کی مثال اس سے قبل کم ہی ملتی ہے۔ ماضی کے حالات ایسے تھے کہ حکومت کے ساتھ گفت وشنید اور مذاکرات کا دروازہ کھلا ہوا تھا،لیکن موجودہ صورتِ حال میں مشکلات کی نوعیت مختلف ہے۔ حکومت نے نہ صرف اقلیتوں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی گفت وشنید کےدروازے بند کررکھے ہیں اورمسلم مخالف اقدامات کو سیاسی فائدے کے لیے کھلے عام اختیار کیا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں احتجاجی حکمت عملی کے لیے پہلے سے زیادہ احتیاط، تدبر اور دور اندیشی درکار ہے۔ (6) آج کے حالات میں میڈیا کے ایک بڑے حصے کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں،عوام میں انہیں بجاطورپر گودی میڈیا کہاجاتاہے، یعنی ایسا میڈیا جو حکومت کی گود میں بیٹھاہوا ہے اور حکومت کی منشاء کے مطابق کام کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر احتجاجی اقدام کے پیغام، اس کی پیش کش اور اس کے ممکنہ نتائج پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے، بورڈ کا مقصد محض احتجاج کرنا نہیں، بلکہ ملت کے حقوق اور مسائل کو
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:54

    Speakers at the Press Conference ● Maulana Ubaidullah Khan Azmi, Vice-President, All India Muslim Personal Law Board ● Mr. Syed Saadatullah Husaini, Vice-President, All India Muslim Personal Law Board and Ameer, Jamaat-e-Islami Hind ● Maulana Asghar Ali Imam Mehdi Salafi, Vice-President, All India Muslim Personal Law Board and Ameer, Jamiat Ahle Hadees ● Maulana Mohammed Fazlur Rahim Mujaddidi, General Secretary, All India Muslim Personal Law Board ● Maulana Muhammad Umrain Mahfooz Rahmani, Secretary, All India Muslim Personal Law Board ● Maulana Hakimuddin Qasmi, General Secretary, Jamiat Ulama-i-Hind ● Dr. S. Q. R.Ilyas, Spokesperson, All India Muslim Personal Law Board and Convenor, “Save the Constitution, Save the Nation” Campaign
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:54

    Denial of Permission for Dharna at Jantar Mantar is a Curbs on Freedom of Expression“Save the Constitution, Save the Nation” Campaign to Continue as Scheduled: _All India Muslim Personal Law Board_https://www.facebook.com/share/p/18B2Cdhbma/ ------------------------------------------ New Delhi, 17 September 2026: The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has expressed deep concern and strongly condemned the Delhi Police’s last-minute refusal to grant permission for the Board’s proposed protest dharna at Jantar Mantar. The Board stated that peaceful protest and freedom of expression are fundamental constitutional rights of citizens and should not be curtailed through administrative decisions. Dr. Syed Qasim Rasool Ilyas, spokesperson of the AIMPLB and Convenor of the “Save the Constitution, Save the Nation” Campaign, visited Parliament Street Police Station three times during
    FacebookLog in or sign up to viewSee posts, photos and more on Facebook.
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:54

    Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:54

    ● मौलाना मुहम्मद फजलुर रहीम मुजद्दिदी, महासचिव, ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड ● मौलाना मुहम्मद उमरैन महफ़ूज़ रहमानी, सचिव, ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड ● मौलाना हकीमुद्दीन क़ासमी, महासचिव, जमीयत उलेमा-ए-हिंद ● डॉ. एस. क्यू. आर. इलियास, प्रवक्ता, ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड तथा संयोजक, “संविधान बचाओ, देश बचाओ” अभियान
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:54

    जंतर-मंतर पर धरने की अनुमति से इनकार अभिव्यक्ति की स्वतंत्रता पर अंकुश है“संविधान बचाओ, देश बचाओ” अभियान निर्धारित कार्यक्रम के अनुसार जारी रहेगा: ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्डhttps://www.facebook.com/share/p/1EvaL98mDT/ ------------------------------------------ नई दिल्ली, 17 सितंबर 2026: ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड (AIMPLB) ने जंतर-मंतर पर प्रस्तावित विरोध-प्रदर्शन और धरने के लिए अनुमति देने से दिल्ली पुलिस द्वारा अंतिम समय में इनकार किए जाने पर गहरी चिंता व्यक्त की और इसकी कड़ी निंदा की। बोर्ड ने कहा कि शांतिपूर्ण विरोध-प्रदर्शन और अभिव्यक्ति की स्वतंत्रता नागरिकों के मौलिक संवैधानिक अधिकार हैं और प्रशासनिक निर्णयों के माध्यम से इन पर अंकुश नहीं लगाया जाना चाहिए। AIMPLB के प्रवक्ता और “संविधान बचाओ, देश बचाओ” अभियान के संयोजक डॉ. सैयद क़ासिम रसूल इलियास ने पिछले दस दिनों के दौरान तीन बार पार्लियामेंट स्ट्रीट पुलिस स्टेशन का दौरा किया और थाना प्रभारी (SHO) तथा पुलिस
    FacebookLog in or sign up to viewSee posts, photos and more on Facebook.
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:54

    Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:53

    Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    17 сент., 10:53

    جنتر منتر پر دھرنے کی اجازت سے انکار اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن ہے’’دستور بچاؤ، ملک بچاؤ‘‘ تحریک حسبِ معمول جاری رہے گی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی:17/ ستمبر 2026 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دہلی پولیس کی جانب سے بورڈ کے مجوزہ احتجاجی دھرنے کو آخری وقت میں اجازت دینے سے انکار پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج اور اظہارِ رائے شہریوں کا بنیادی اور دستوری حق ہے، جسے انتظامی فیصلوں کے ذریعے سلب نہیں کیا جانا چاہئے۔ بورڈ کے ترجمان اور ’’دستور بچاؤ، ملک بچاؤ تحریک" کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے گزشتہ دس دنوں کے دوران تین مرتبہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کا دورہ کرکے ایس ایچ او اور ڈی سی پی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دھرنے میں مقررہ تعداد سے زیادہ افراد شریک نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود دھرنے سے صرف ایک روز قبل یہ کہتے ہوئے اجازت منسوخ کردی گئی کہ پولیس کو بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کا خدشہ ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو یک طرفہ اور
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    16 сент., 18:10

    मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड का धरना स्थगित​हमें अत्यंत खेद और दुख के साथ दिल्ली, पड़ोसी राज्यों और देश के विभिन्न हिस्सों से ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के कल जंतर-मंतर, नई दिल्ली में आयोजित होने वाले धरने/प्रदर्शन में शामिल होने आ रहे लोगों को सूचित करना पड़ रहा है कि दिल्ली पुलिस ने धरने की अनुमति देने से इनकार कर दिया है। ​पुलिस ने अनुमति न देने का कारण यह बताया है कि दिल्ली और देश के विभिन्न राज्यों से बड़ी संख्या में लोग प्रदर्शन में भाग लेने आ रहे हैं। हालांकि, हम तीन बार पार्लियामेंट स्ट्रीट थाने जाकर एसएचओ (SHO) और डिप्टी कमिश्नर को यह आश्वासन दे चुके थे कि प्रदर्शन में तय संख्या से अधिक लोग शामिल नहीं होंगे। इसके बावजूद पुलिस हर बार यही कहती रही कि प्रदर्शन की खबर सोशल मीडिया पर बड़े पैमाने पर वायरल हो रही है। ​जंतर-मंतर पर शांतिपूर्ण प्रदर्शन करना हमारा संवैधानिक और कानूनी अधिकार है। पुलिस द्वारा अनुमति न दिए जाने के इस रवैये की हम कड़े शब्दों में निंदा करते हैं। ​मौजूदा
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    16 сент., 18:09

    مسلم پرسنل لا بورڈ کا دھرنا ملتویہمیں نہایت افسوس اور دکھ کے ساتھ دہلی، ملحقہ ریاستوں اور ملک کے مختلف حصوں سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کل جنتر منتر، نئی دہلی میں منعقد ہونے والے مظاہرے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو مطلع کرنا پڑ رہا ہے کہ دہلی پولیس نے دھرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔پولیس نے اجازت نہ دینے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ دہلی اور ملک کی مختلف ریاستوں سے بڑی تعداد میں لوگ مظاہرے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔ حالاں کہ ہم تین مرتبہ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے جا کر ایس ایچ او اور ڈپٹی کمشنر سے یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ مظاہرے میں مقررہ تعداد سے زیادہ افراد شریک نہیں ہوں گے۔ اس کے باوجود پولیس ہر بار یہی کہتی رہی کہ مظاہرے کی خبر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہے۔جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کرنا ہمارا دستوری اور قانونی حق ہے۔ پولیس کی جانب سے اجازت نہ دینے کے اس طرزِ عمل کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔تاہم، موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر ہم دہلی اور دیگر ریاستوں سے
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    16 сент., 15:04изменён

    ▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 342▪️🗓 برائے تاریخ: 18 ستمبر 2026 مطابق , 05 ربیع الثانی 1448🎯 ​ نماز اور ہماری زندگی کی ترجیحات📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں: https://t.me/AIMPLB_Official/10072 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ▪️_ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:_ http://wa.me/+918657219464🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
    2,550файл42Открыть в Telegram
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    13 сент., 17:15

    Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    13 сент., 17:12

    Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    13 сент., 17:12

    مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کا حل بلڈوز نہیں، بلکہ قانون، عدالت اور آئین ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضہ ہے کہ ریاست ہر شہری اور ہر مذہبی مقام کیساتھ یکساں قانونی معیار اختیار کرے۔✍️ ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس صاحب ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    13 сент., 04:14

    📢 जंतर-मंतर पर विशाल विरोध प्रदर्शन!​देश में अल्पसंख्यकों, विशेष रूप से मुसलमानों के अधिकारों की रक्षा, मस्जिदों और मदरसों के बचाव तथा अन्याय के खिलाफ ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के नेतृत्व में विरोध प्रदर्शन।​🗓️ दिनांक: 17 सितंबर 2026 (गुरुवार) ​⏰ समय: दोपहर 2:00 बजे ​📍 स्थान: जंतर-मंतर, दिल्ली_​बड़ी संख्या में शामिल होकर अपनी एकजुटता और सामाजिक चेतना का परिचय दें।_👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼 https://www.facebook.com/share/p/1EeaqhmLGj/
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    13 сент., 04:14

    Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖Иллюстрация к посту канала ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
  • ⚖All India Muslim Personal Law Board⚖

    13 сент., 04:14

    ​📢 جنتتر منتر پر عظیم الشان مظاہرہ!​ملک میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ، مساجد و مدارس کے دفاع اور ناانصافیوں کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ۔​🗓️ تاریخ: 17 ستمبر 2026 (بروز جمعرات) ​⏰ وقت: دوپہر 2:00 بجے ​📍 مقام: جنتتر منتر، دہلی_​کثیر تعداد میں شرکت فرما کر دینی حمیت اور ملی غیرت کا ثبوت دیں۔_👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇 https://www.facebook.com/share/p/1DYTYmJtnV/